کم عمر لڑکی سے شادی کے فوائد

ایک تحقیق کے مطابق اپنے سے پندرہ سال کم عمر لڑکی سے شادی کرنے سے انسان کی عمر میں اضافہ ہوتا ہے او ر اسکی صحت اچھی رہتی ہے۔ جب سے یہ خبر مارکیٹ میں آئی ہے تب سے تمام بتیسی نکالے، کنوارے ، رنڈوے ، بیمار، لاغر، چمکتی چندیا والے اور موٹے پیٹ والے حضرات بھی گرلز پرائمری اسکول کے باہر پھرتے گھرتے نظر آتے ہیں، اور باپ صاحب بیٹے کے سر پر سہرا سجانے یا بیٹیاں بیاہنے کی بجائے اپنا سہرا دہرانے کے گھن چکر میں پڑ گئے ہوتے ہیں تاکہ گری ہوئی صحت بحال ہو سکے۔اس تلاش بسیار برائے لڑکی چھوٹی عمر میں ان شوقین حضرات کو اگر کبھی

کچھ ایذا رسانی یا چھوٹی موٹی سنگ باری سے بھی گزرنا پڑے تو یہ تمام درد ہنس ہنس کر سہ جاتے ہیں۔ ویسے یار اگر چھوٹی عمر کی عمر کی لڑکی سے شادی کرنے سے ہی صحت اچھی رہتی ہے تو پھر مختلف امراض کے ڈاکٹر اور حکماء حضرات کی کیا ضرورت؟ جس کی جتنی زیادہ شدید بیماری ہو اسکی اتنی ہی کم عمر کی لڑکی یا لڑکیوں سے شادی رچا دی جائے ، بیماریاں غائب، بندہ صحت مند اور عمر طویل ۔ اللہ اللہ خیر صلا ۔یوں ڈاکٹر حضرات دوا دارو کے ساتھ ساتھ شادیوں والا کام بھی شروع کردیں گے۔ ویسے بھی ہمارے ہاں ہر ماں کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اسکی ہونے والی چاند سی دلہن کم عمر اور خوبصورت ہو، مگر مذکورہ خبر پڑھنے کے بعد تو لگتا ہے کہ وہ اپنے چندیا چمکے بیٹے کی لیے پرائمری کلاس کی لڑکی ہی ڈھونڈ تی پھرے گی اور ظاہر ہے کہ لڑکے کی خواہش بھی کچھ ایسی ویسی ہی سی ہوگی۔آپ تصور کریں کہ ایک پچاس سالہ بوڑھا بابا ایک پندرہ سالہ لڑکی یعنی بیوی بغل میں داب کر ساتھ مٹر گشت پر ہو تو کیسا لگے گا؟ لوگ دیکھ کر یہی کہیں گے نہ کہ ابا بیٹی ساتھ جا رہے ہیں ۔ یا یہ کہ کیا قسمت ہے یار! یا پھر لنگو ر کی بغل میں حور! یا بڑے میاں دیوانے! یا منہ میں نہیں دانت ، پیٹ میں نہیں آنت اور لیے چلے راکھی ساونت یا ملکہ شراوت !یا یہ کہ کیا جوے

میں جیتی؟ یا یہ کہ کتنے میں خریدی، وغیرہ وغیرہ۔ کبھی کبھی کچھ منچلے کچھ نازیبا الفاظ بھی استعمال کر جاتے ہیں مگر بڑے میاں نہ تو جواب دے سکتے ہیں اور ہی انکے پیچھے مارنے کو دوڑ سکتے ہیں کیونکہ اس عمر میں تو چلنا ہی محال ہوتا ہے، کسی کے پیچھے بھا گنا تو دور کی بات ہے۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بڑے میاں کی کم عمر دلہن کو ئی چھین کر لیجاتا ہے اور پھر کہیں غلطی سے برآمدگی کے لیے پولیس کے ہتھے چڑھ گئے تو نکاح نامہ ہونے کے باوجود بھی ثابت نہیں کر پائیں گے کہ وہ حقیقی میاں بیوی ہیں؟۔ ویسے عرب حضرات کی طویل ا لعمری اور صحت کا راز بھی ہمیں اب سمجھ میں آیا کہ وہ ہر وقت کیوں ایک سے زیادہ اور کم عمر لڑکی سے شادی کے چکر میں رہتے ہیں۔ ویسے ہمارے اپنے ملک میں بھی ابھی تلک کچھ بابے حضرات اس شوق میں مبتلا پائے جاتے ہیں اور اس لائن میں ایک مشہور سیاستدان بطور خاص قابلِ ذکر ہیں جنکی آخری زوجہ محترمہ انکی اپنی بیٹی سے بھی چھوٹی ہیں اور انکی صحت راز یوگا کے علاوہ شاید کم عمر کی لڑکیوں سے شادی کرنا بھی ہو۔ ویسے آپ یہ ٹرائی مت ماریے گا کیونکہ

یہ ہر ایرے غیرے یا نتھو خیرے کا کام نہیں؟ زیادہ تر لوگ یہ کارنامہ سر انجام دیکر توبہ توبہ کرتے اور کانوں کو ہاتھ لگاتے نظر آتے ہیں، پتہ نہیں کیوں ؟؟؟؟؟آجکل آن لائن شادیوں کا بھی بڑا چکر چلا ہوا ہے۔ دلہن لندن میں تو دولہا صاحب انڈیا میں پھیرے لے رہے ہوتے ہیں، یا قبول ہے قبول ہے کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ جانے بغیر کہ دوسری طرف لیپا پوتی اور میک اپ کی تراش خراش سے ایک چالیس سالہ خاتون کو کیسے بیس سالہ لڑکی کے القاب میں ڈھالا گیا ہے۔ میاں صاحب کا تراہ تو اسوقت نکلتا ہے جب بیگم صاحبہ منہ ہاتھ دھوکر اپنے اصلی حالت میں وارد ہوتی ہیں۔ اس طرح بیچارے شوہر نامدار کا کسی کم عمر لڑکی سے شادی رچا کر اپنے آپ کو سدا جوان رکھنے کا خواب ادھورا رہ جاتا ہے۔ بزرگوں سے سنا ہے کہ پرانے زمانے میں تو دلہنیں اپنے شوہر نامدار سے بھی سالوں گھونگھٹ نکالتی تھیں اور میاں بیچارہ سالوں بعد اسوقت اپنی دلہن کی شکل دیکھ پاتا تھا جب وہ بیچاری دلہن کم عمر لڑکی سے ایک کم عمر بچے کی اماں بن چکی ہوتی تھیں۔تصور کریں کہ

اگر آج کے زمانے میں ایسا ہوجائے تو شاید کوئی بوڑھی بغیر شادی کے نہ رہے۔ ویسے ہمارے ملکی حالات کے پیش نظر تو ہمیں اس تحقیق میں کچھ گھوٹالا نظر آتا ہے، کیونکہ آدمی جتنی کم عمر لڑکی سے شادی رچائے گا تو اسکے مسائل میں اتنا ہی اضافہ ہوگا مثلا: کم عمر لڑکی کے پڑھائی لکھائی کے اخراجات، کپڑوں لتوں کے اخراجات، میک اپ شیک اپ کے اخراجات وغیرہ وغیرہ ۔کم عمری، نا پختہ پن، اور نا تجربہ کاری کی بنا پر ساس بہو کے تعلقات میں ممکنہ کشیدگی ، نئے سرے سے تمام گھرداری کی سکھلائی ، تو خوش ہونے کے بجائے پریشانی ہوگی نہ۔ اسکے برعکس اگر ایک بڑی عمر کی عورت سے شادی کی جائے تو اس بیچاری کی آدھی خواہشات تو ویسے ہی مردہ ہو چکی ہوتی ہیں،

نہ کپڑوں کا زیادہ خرچہ، نہ میک اپ شیک اپ ، نہ پڑھانے لکھانے کا خرچہ، بلکہ اسکے تجربہ کی وجہ سے گھر کے اخراجات میں ممکنہ کمی، میاں خوش باش ، طبیعت صحت ھشاش بشاش۔ ساس بہو دونوں خوش باش۔ (دونوں ایک سی عمروں کی)۔یوروپین لوگوں کے بارے میں اس تحقیق نے کچھ نہ کہا ہے جو کہ شادی کی زحمت ہی دو تین بچے پیدا کرنے کے بعد کرتے ہیں اور خاص طور پر انگریز اداکار اور اداکارائیں جو کہ ہر سال چھ ماہ بعد شوہر یا بیوی ایسے بدلتے ہیں جیسے ہمارے نام نہاد جمہوری حکومتیں تبدیل ہوتی ہیں۔۔۔۔۔ تا ہم معروف آنجہانی اداکارہ الز بتھ ٹیلر کو دیکھ کر تومعاملہ ہی الٹ لگتا ہے ، یعنی پونی درجن شادیاں رچانے کے بعد بھی انکی (یعنی دلہن کی) جوانی اور بڑھاپا دونوں ہی شاندار، عمر طویل اور صحت لاجواب رہی ۔ البتہ موصوفہ کے شوہر حضرات منظر سے غائب رہے؟؟ ۔ الزبتھ ٹیلر کیس میں لگتا ہے کہ

یہ تحقیق الٹ ثابت ہوئی یعنی دولہا کی صحت اچھی ہونے کے بجائے دلہن کی صحت اچھی اور شاندار رہی اور آنجہانی محترمہ عمر کے ہر حصے میں لوگوں پر قیامت ڈھاتی بلآخر حال ہی میں اوپر کو سدھاری ہیں ۔ دوسری طرف بیچارہ آنجہانی مائیکل جیکسن تھا جو دو شادیاں کرنے اور بچے ہونے کے باوجود بھی آخری وقت تک تنہا تھا، نہ ہی کم عمر اور نہ زیادہ عمر کی کوئی بھی بیوی پاس ہونے کے بجائے صرف دو ائیں ہی اسکا آخری سہارا تھیں اور مرنے کے بعد اسکے معدے سے آخری سہارا یعنی بیوی کے بجائے ایک عدد گولی بر آمد ہوئی۔ (کھانے والی گولی، بندوق والی نہ سمجھیے گا)۔ پاکستان میں چائلڈ میرج یعنی کم عمری کی شادی قابل گرفت ہے اور حکومت کو اس قانون میں ترمیم بھی کرنا پڑ سکتی ہے۔ ویسے اگر چائلڈ میرج کا سروے کرایا جائے تو پاکستان کی بہت سی مذہبی اور سیاسی شخصیات اس کیس میں ڈھکی جا سکتی ہیں۔ پچھلے دنوں ایک مشہور ٹی وی پروگرام کی خوبصورت کمپیئر ایک انٹرویو میں اپنے آپکو چائلڈ میرج کیس بتا کر اپنے میاں پر کیس کرانے کو سوچ رہی تھیں۔ اگر یہ کیس کرانے کا سلسلہ یونہی چل پڑا تو سوچیں کہ کیسا ہوگا مردوں کا مستقبل؟؟

پانچ سو روپے کا گدھا

ایک شخص بازار میں صدا لگا رہا تھا۔ گدھا لے لو۔ پانچ سو روپے میں گدھا لے لو۔گدھا انتہائی کمزور اور لاغر قسم کا تھا۔وہاں سے بادشاہ کا اپنے وزیر کے ساتھ گزر ہوا،بادشاہ وزیر کے ساتھ گدھے کے پاس آیا اور پوچھا کتنے کا بیچ رہے ہو؟اس نے کہا عالی جاہ ! پچاس ہزار کا۔بادشاہ حیران ہوتے ہوئے، اتنا مہنگا گدھا؟ ایسی کیا خاصیت ہے اس میں؟وہ کہنے لگا حضور جو اس پر بیٹھتا ہے اسے مکہ مدینہ دکھائی دینے لگتا ہے۔ بادشاہ کو یقین نہ آیا اور کہنے لگا اگر تمہاری بات سچ ہوئی تو ہم ایک لاکھ کا خرید لیں گےلیکن اگر جھوٹ ہوئی تو تمہارا سر قلم کر دیا جائے گاساتھ ہی وزیر کو کہا کے اس

پر بیٹھو اور بتاؤ کیا دکھتا ہے؟وزیر بیٹھنے لگا تو گدھے والے نے کہا جناب مکہ مدینہ کسی گنہگار انسان کو دکھائی نہیں دیتا۔وزیر: ہم گنہگار نہیں، ہٹو سامنے سے۔ اور بیٹھ گیا لیکن کچھ دکھائی نہ دیا۔اب سوچنے لگا کے اگر سچ کہہ دیا تو بہت بدنامی ہوگی،اچانک چلایا سبحان اللہ، ما شاء اللہ، الحمدللہ کیا نظارہ ہے مکہ، مدینہ کا۔۔بادشاہ نے تجسس میں کہا ہٹو جلدی ہمیں بھی دیکھنے د،واور خود گدھے پر بیٹھ گیا،دکھائی تو اسے بھی کچھ نہ دیالیکن سلطانی جمہور کی شان کو مدنظر رکھتے ہوئے آنکھوں میں آنسو لے آیااور کہنے لگا واہ میرے مولا واہ، واہ سبحان تیری قدرت، کیا کراماتی گدھا ہے،کیا مقدس جانور ہے،میرا وزیر مجھ جتنا نیک نہیں تھا اسے صرف مکہ مدینہ دکھائی دیا مجھے تو ساتھ ساتھ جنت بھیدکھائی دے رہی ہے۔اس کے اترتے ہی عوام ٹوٹ پڑی کوئی گدھے کو چھونے کی کوشش کرنے لگا، کوئی چومنے کی ،کوئی اس کے بال کاٹ کر تبرک کے طور پر رکہنے لگا وغیرہ وغیرہ. ….. یہی حال کچھ ہمارے سماج میں بس رہے کچھ جالسازوں اور مکاروں کا ہے جنہوں نے دینی اصطلاحات اور دین کے نام پر فریب دینے کا بیڑا اٹھا رکہا ہے اور سادہ لوح عوام بھی اندھے کانے بن کر پیچھے چل پڑتے ہیں

استاد کے بغیر

ایک خاتون نے انگریزی پڑھی – ان کے والد مولوی تھے – ان کے گھر پر انگریزی کا ماحول نہ تھا – چنانچہ ایم اے( انگلش ) انہوں نے بمشکل تھرڈ نمبروں سے پاس کیا – ان کا شوق تھا کہ ان کو انگریزی لکھنا آ جائے – یہ کام ایک اچھے استاد کے بغیر نہیں ہو سکتا تھا – لیکن ان کے گھر کے حالات اس کی اجازت نہیں دیتے تھے کہ وہ کوئی استاد رکھیں اور اس کی مدد سے اپنے اندر انگریزی لکھنے کی صلاحیت پیدا کریں – مگر جہاں تمام راستے بند ہوتے ہیں وہاں بھی راستہ آدمی کے لئے کھلا ہوتا ہے – شرط صرف یہ ہے کہ آدمی کے اندر طلب ہو اور وہ اپنے مقصد کے حصول میں اپنی

پوری طاقت لگا دے – خاتون نے استاد کے مسئلہ کا ایک نہایت کامیاب حل تلاش کر لیا – انہوں نے لندن کی ایک چھپی ہوئی ایک کتاب پڑھی – اس میں انگریز مصنف نے بیرونی ملکوں کے انگریزی طالب علموں کو یہ مشورہ دیا تھا کہ وہ انگریزی لکھنے کی مشق اس طرح کریں کہ کسی اہل زبان کی لکھی ہوئی کوئی کتاب لے لیں – اس کے بعد روزانہ اس سے چند صفحات لے کر پہلے اس کا اپنی زبان میں ترجمہ کریں پھر کتاب بند کر کے الگ رکھ دیں – اور اپنے ترجمہ کو بطور خود انگریزی میں منتقل کریں – جب ایسا کر لیں تو اس سے کے بعد دوبارہ کتاب کھولیں اور اس کی چھپی ہوئی عبارت سے اپنے انگریزی ترجمہ کا مقابلہ کریں –

جہاں نظر آئے کہ انہوں نے کوئی غلطی کی ہے یا طریق اظہار میں کوتاہی ہوئی ہے اس کو اچھی طرح ذہن کی گرفت میں لائیں اور کتاب کی روشنی میں خود ہی اپنے مضمون کی اصلاح کریں – خاتون نے اس بات کو پکڑ لیا – اب وہ روزانہ اس پر عمل کرنے لگیں – انگریزی اخبار یا رسالہ یا کسی کتاب سے انگریزی کا کوئی مضمون لے کر وہ روزانہ اس کو اردو میں ترجمہ کرتیں اور پهر اپنے اردو ترجمہ کو دوبارہ انگریزی میں منتقل کرتیں اور پهر اپنے انگریزی ترجمہ کو اصل عبارت سے ملا کر دیکھتیں کہ کہاں کہاں فرق ہے – کہاں کہاں ان سے کوئی کمی ہوئی ہے – اس طرح وہ روزانہ تقریباً دو سال تک کرتی رہیں – اس کے بعد ان کی انگریزی اتنی اچھی ہو گئی کہ وہ انگریزی میں مضامین لکھنے لگیں – ان کے مضامین انگریزی جرائد میں چھپنے لگے –

ان کے بھائی نے ایکسپورٹ کا کام شروع کیا جس میں انگریزی خط و کتابت کی کافی ضرورت پڑتی تھی – خاتون نے انگریزی خط و کتابت کا پورا کام سنبھال لیا اور اس کو کامیابی کے ساتھ انجام دیا – مذکورہ خاتون نے جو تجربہ انگریزی زبان میں وہی تجربہ دوسری زبانوں میں بھی کیا جا سکتا ہے – ہماری دنیا کی ایک عجیب خصوصیت یہ ہے کہ اس میں کسی کامیابی تک پہنچنے کے بہت سے ممکن طریقے ہوتے ہیں – کچھ دروازے آدمی کے اوپر بند ہو جائیں تب بھی کچهہ دوسرے دروازے کھلے ہوتے ہیں جن میں داخل ہو کر وہ اپنی منزل تک پہنچ سکتا ہے – یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ دنیا میں کسی شخص کی ناکامی کا سبب ہمیشہ پست ہمتی ہوتا ہے نہ کہ اس کے لیے مواقع کا نہ ہونا –

لندن میں جب رات کے وقت قائداعظم محمد علی جناح کے کمرے میں زلزلہ آیا

انسٹی ٹیوٹ آف آل انٹیلی جنٹ لائف کے بانی ڈاکٹر ایلن قیصرنے کہاہے کہ 1934ءمیں جب قائداعظم محمد علی جناحؒ لندن میں تھے لیکن جب وہ واپس ممبئی آئے تو ان کے سب سے قریبی دوست علامہ شبیر احمد عثمانی نے ان سے پوچھا کہ ہم سب آپ کو واپس لانے کی کوشش کر رہے تھے لیکن آپ نہیں مانے ،آپ واپس آگئے ہیں ہم بہت خوش ہیں ،کس کے کہنے پر آئے ،علامہ اقبال نے کوئی شاعری لکھی جس کی وجہ سے آپ واپس آئے یا لیاقت علی خان نے یا اور کسی نے،کیونکہ ہم سب آپ کو لانے کی کوشش کررہے تھے ۔ قائداعظم محمد علی جناح نے جواب دیاکہ ایسی بات نہیں ہے جیسے آپ سوچ رہے ہیں میں آپ کو بتاؤں گا حقیقت میں کیا ہوا لیکن ایک شرط پر کہ آپ کسی کو نہ بتائیں جب تک میں زندہ ہوں۔ تو علامہ شبیر احمد عثمانی صاحب نے کہا ٹھیک ہے۔ قائداعظم نے بتایا جب میں لندن میں تھا ،تو ایک رات کو میرا پلنگ ہل رہا تھا ، میں جاگ گیا تھا، ادھر اُدھر دیکھا کہ پلنگ ایسے کیوں ہل رہا تھاکچھ نہیں تھا میں سو گیا ، پلنگ دوبارہ ہلنے لگا، اتنے زور سے کہ میں سوچ رہا تھا کہ زلزلہ آرہا ہے، میں جاگ گیا اور اٹھ کر باہر نکل گیا گھر سے تو باہر دیکھا کوئی اور لوگ باہر نہیں ہیں میں پھر آ کرسوگیا۔ تیسری بار پھر پلنگ ہل رہا تھا اورایک بار پھر میں جاگ گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ میرے کمرے میں ایک بڑی بزرگ شخصیت کھڑی ہیں،

۔قائد اعظم نے انگریزی زبان میں پوچھا کہ ’آپ کون ہیں تو آگے سے انگریزی میں ہی جواب ملا کہ میں ’’تمہارا نبی ﷺ ہوں‘‘ ،قائد اعظم ایک دم ہاتھ باندھ کر کھڑے ہو گئے اور کہا کہ میرے آقا میرے لئے کیا حکم ہے اورمیں ’آپ کیلئے کیا کر سکتا ہوں ‘۔’آپ ﷺ نے حکم دیتے ہوئے فرمایا کہ تم فوری واپس برصغیر جاؤ،برصغیر کے مسلمانوں کو تمہاری بہت ضرورت ہے اور آزادی کی جدو جہد کی سربراہی کرو میں تمہارے ساتھ ہوں ۔ انشااللہ تم ہی اس مہم میں کامیابی حاصل کروگے۔

بنی اسراءیل کا قصاب اورپڑوسی کی لونڈی

بنی اسرائیل کا ایک قصاب اپنے پڑوسی کی لونڈی پر عاشق ہوگیا۔ اتفاق سے ایک دن لونڈی کو اس کے مالک نے دوسرے گاؤں کسی کام سے بھیجا ،قصاب کو موقع مل گیا اور وہ بھی اس لونڈی کے پیچھے ہولیا ، جب لونڈی جنگل سے گزری تو اچانک قصاب نے سامنے آ کر اسے پکڑ لیا اور اسے گناہ پر آمادہ کرنے لگا۔جب اس لونڈی نے دیکھا کہ اس قصاب کی نیت خراب ہے تو اس نے کہا: ”اے نوجوان تُو اس گناہ میں نہ پڑ !حقیقت یہ ہے کہ جتنا تُو مجھ سے محبت کرتا ہے اس سے کہیں زیادہ میں تیری محبت میں گرفتار ہوں لیکن مجھے اپنے مالک حقیقی عزوجل کا خوف اس گناہ کے اِرتکاب

سے روک رہا ہے ۔” اس نیک سیرت اور خوفِ خدا عزوجل رکھنے والی لونڈی کی زبان سے نکلے ہوئے یہ الفاظ تاثیر کا تیربن کر اس قصاب کے دل میں پیوست ہوگئے اور اس نے کہا: ” جب تُو اللہ عزوجل سے اِس قدر ڈر رہی ہے تو مَیں اپنے پاک پرور دگار عزوجل سے کیوں نہ ڈروں- مَیں بھی تو اسی مالک عزوجل کا بندہ ہوں ، جا….تو بے خوف ہو کر چلی جا۔” اتنا کہنے کے بعد اس قصاب نے اپنے گناہوں سے سچی توبہ کی اور واپس پلٹ گیا ۔راستے میں اسے شدید پیاس محسوس ہوئی لیکن اس ویران جنگل میں کہیں پانی کا دور دور تک کوئی نام ونشان نہ تھا قریب تھا کہ گرمی اور پیاس کی شدت سے اس کا دم نکل جاتا، اتنے میں اسے اس زمانے کے نبی کا ایک قاصد ملا، جب اس نے قصاب کی یہ حالت دیکھی تو پوچھا: ”تجھے کیا پریشانی ہے؟”کہا:” مجھے سخت پیاس لگی ہے۔”یہ سن کر قاصدنے کہا: ”آؤ! ہم دونوں مل کر دعا کرتے ہیں کہ اللہ عزوجل ہم پر اپنی رحمت کے بادل بھیجے اور ہمیں سیراب کرے یہاں تک کہ ہم اپنی بستی میں داخل ہوجائیں۔”قصاب نے جب یہ سنا تو کہنے لگا: ”میرے پاس تو کوئی ایسا نیک عمل نہیں جس کا وسیلہ دے کر دعا کروں، آپ نیک شخص ہیں آپ ہی دعا فرمائیں ۔” اس قاصد نے کہا :

مَیں دعا کرتا ہوں، تم آمین کہنا، پھر قاصد نے دعا کرنا شروع کی اور وہ قصاب آمین کہتا رہا،تھوڑی ہی دیر میں بادل کے ایک ٹکڑے نے ان دونوں کو ڈھانپ لیا اور وہ بادل کا ٹکڑا ان پر سایہ فگن ہوکر ان کے ساتھ ساتھ چلتا رہا ۔ جب وہ دونوں بستی میں پہنچے تو قصاب اپنے گھر کی جانب روانہ ہوا اور وہ قاصد اپنی منزل کی طرف جانے لگا، بادل بھی قصاب کے ساتھ ساتھ رہا جب اس قاصد نے یہ ماجرہ دیکھا توقصاب کو بلایا اور کہنے لگا : ” تم نے تو کہا تھا کہ میرے پاس کوئی نیکی نہیں ، اور تم نے دعا کرنے سے اِنکار کردیا تھا ، پھر میں نے دعا کی اورتم آمین کہتے رہے ،لیکن اب حال یہ ہے کہ بادل تمہارے ساتھ ہو لیا ہے او رتمہارے سر پر سایہ فگن ہے ، سچ سچ بتاؤ! تم نے ایسی کون سی عظیم نیکی کی ہے جس کی وجہ سے تم پر یہ خاص کرم ہوا؟” یہ سن کر قصاب نے اپنا سارا واقعہ سنایا۔اس پر اس قاصد نے کہا :” اللہ عزوجل کی بارگاہ میں گناہوں سے توبہ کرنے والوں کا جومقام و مرتبہ ہے وہ دوسرے لوگوں کا نہیں ۔” اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بے شک گناہ سرزد ہونا انسان ہونے کی دلیل ہے مگر ان پر توبہ کر لینا مومن ہونے کی نشانی ہے- (حکایتِ سعدی) جزاک اللہ خیر

تمہیں پتہ ہے کہ اللہ نے مکھی کو کیوں پیدا کیا ہے؟

ﺧﺮﺍﺳﺎﻥ ﮐﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺷﮑﺎﺭ ﮐﮭﯿﻞ ﮐﺮﻭﺍﭘﺲ ﺁﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺗﺨﺖ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺗﮭﮑﺎﻭﭦ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﻮﺟﮭﻞ ﮨﻮ ﺭﮨﯽ تھی، ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﯾﮏ ﻏﻼﻡ ﮨﺎﺗﮫ ﺑﺎﻧﺪﮬﮯ ﻣﻮﺩﺏ ﺳﮯ ﮐﮭﮍﺍ ﺗﮭﺎ، ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﻮﺳﺨﺖ ﻧﯿﻨﺪ ﺁﺋﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﮕﺮ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﻨﺪ ﮨﻮﺗﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﻣﮑﮭﯽ ﺁﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻧﺎﮎ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﯿﻨﺪ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺧﯿﺎﻟﯽ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻏﺼﮯ ﺳﮯ ﻣﮑﮭﯽ ﮐﻮ ﻣﺎﺭﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺗﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﯽ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﭘﮍﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﮨﮍﺑﮍﺍ ﮐﺮ ﺟﺎﮒ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺟﺐ ﺩﻭ ﺗﯿﻦ ﺩﻓﻌﮧ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﻮﺍﺗﻮﺍﺱ ﻧﮯ ﻏﻼﻡ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ: ﺗﻤﮩﯿﮟ ﭘﺘﮧ ﮨﮯﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﻣﮑﮭﯽ ﮐﻮ ﮐﯿﻮﮞ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﭘﯿﺪﺍﺋﺶ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﮐﯿﺎ ﺣﮑﻤﺖ

ﭘﻮﺷﯿﺪﮦ ﮨﮯ؟ ﻏﻼﻡ ﻧﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﺎ ﯾﮧ ﺳﻮﺍﻝ ﺳﻨﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﺟﻮ ﺳﻨﮩﺮﮮ ﺣﺮﻭﻑ ﺳﮯ ﻟﮑﮭﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻗﺎﺑﻞ ﮨﮯ۔ﻏﻼﻡ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ: ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﻼﻣﺖ ! ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﻣﮑﮭﯽ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﺎﺩﺷﺎﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺳﻠﻄﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮨﻮﺗﺎ ﺭﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﻌﺾ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺯﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﻣﮑﮭﯽ ﭘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﻠﺘﺎ۔ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻏﻼﻡ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﺍﺗﻨﯽ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﺸﯿﺮ ﻣﻘﺮﺭ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ

جب ایک ملکہ کو ایک بھنگی سے عشق ہو گیا

ایک بار ایک بھنگی بادشاہ کے محل میں صفائی کرتے جب ایک بھنگی کی نظر ملکہ پہ پڑی تو وہ پہلی نظر میں اس پہ فدا ہو گیا۔ لیکن اپنی حیثیت اور ملکہ کی حیثیت میں فرق دیکھا تو سر جھکائے وہاں سے چلا گیا۔ پر دل تھا جو ایک ملاقات کی حسرت میں تڑپتا رہا۔ عشق کی بیماری نے جسمانی بیماری کا روپ لیا اور وہ بستر پہ پڑ گیا۔ بھنگی کی بیوی بھی اس ساری حالت سے واقف تھی۔ بھنگی کی خراب حالت کی بنا پر اسکی بیوی اسکی جگہ کام پہ لگ گئی۔ کئی دن تک جب بھنگی ملکہ کو وہاں نظر نہ آیا تو اس نے اسکی بیوی سے دریافت کیا، بھنگی کی بیوی یہ سوچ کر گھبرا گئی کہ ملکہ کو اصل بات بتا دی تو نا جانے کیا حال ہو ہمارا۔ لیکن ملکہ نے اسکی گھبراہٹ جانچ کر اسے اعتماد میں لیا اور حقیقت پوچھی۔ بھنگی کی بیوی نے وہ ساری صورت حال ملکہ کے گوش گزار کر دی۔ تب ملکہ نے اسے کہا کہ اس سے ملاقات کا یہی ایک رستہ ہے، تم اپنے شوہر سے جا کے کہہ دو کل وہ شہر سے باہر کسی رستے پہ بیٹھ جائے اور بس اللہ اللہ کرتا رہے،نہ تو کسی سے بات کرے اور

نہ ہی کسی کا دیا کوئی تحفہ قبول کرے۔ ایسا کرنے سے جب اسکے چرچے بادشاہ تک پہنچیں گے تو ملاقات کے رستے بھی کھل جائیں گے۔ ملکہ کا پیغام سنتے ہی بھنگی کی جان میں جان آئی اور وہ گداؤں کا بھیس بدل کے ایک رستے پہ جا کے بیٹھ گیا اور اللہ اللہ کا ورد شروع کردیا۔ آنے جانے والے اس متاثر ہوتے اور نظرانے ساتھ لاتے لیکن وہ نہ سر اٹھا کے کسی کو دیکھتا نہ ہی کسی چیز کو ہاتھ لگاتا۔ کرتے کرتے خبر بادشاہ تک پہنچی اور اس نے وزیر کو بھیجا کہ دریافت کرو کہ کون ہے وہ اور اسکی سچائی کس حد تک ہے۔ وزیر نے واپس جا کر بادشاہ سے اسکی بہت تعریف کی، بادشاہ فیض پانے کی غرض سے خود چل کر اسکے پاس گیا۔ جب ہر طرف اسکے چرچے ہونے لگے تو ملکہ نے بادشاہ سے اس نیک انسان کی زیارت کی خواہش ظاہر کی۔ بادشاہ نے اجازت دی۔ اسی اثناؑ میں جب بھنگی کو اس بات کا احساس ہو کہ اب تک وہ دل سے نہیں صرف ایک دنیاوی مقصد کے تحت ہی اللہ پاک کے نام کی تسبیح کر رہا تھا۔ وہ جھوٹا ہے لیکن پھر بھی اللہ کی رحمت اس پر اس قدر ہے کہ لوگ اسکے سامنے جھک رہے ہیں کیا بادشاہ اور کیا عام آدمی سب ہی اسے عزت دے رہے ہیں۔ یہ کرامات تو صرف زبان سے وہ پاک نام لینے کی ہیں اگر سچے دل سے اس نام کی تسبیح کی جائے تو اور کتنی رحمتوں کا نزول اس پہ ہوگا۔ جب ملکہ اسکے پاس پہنچی تو اس نے سر اٹھا کے اسکی طرف نہ دیکھا اور وہ روتی ہوئی واپس اپنے محل چلی گئی۔

شکرکرو ‘توبہ کرو اورخوش رہو

امریکا کی 40ویں ریاست ہے‘ یہ ریاست بحر الکاہل میں ایک وسیع جزیرہ ہے‘ یہ آسٹریلیا سے قریب اور امریکا کی دوسری ریاستوں سے دور واقع ہے‘ امریکا میں تین طویل ترین ڈومیسٹک فلائیٹس چلتی ہیں‘ پہلی فلائیٹ 13 گھنٹے‘ دوسری 12 گھنٹے اور تیسری 11 گھنٹے لمبی ہے‘یہ تینوں فلائیٹس ہوائی جاتی ہیں‘ ہونولولو ہوائی کا دارالحکومت ہے‘ یہ دنیا کے خوبصورت ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ دنیا کے اس خوبصورت شہر کی قربت میں 28 اپریل 1988ءکو ایک عجیب واقعہ پیش آیا‘ یہ واقعہ 58 سالہ ائیر ہوسٹس لانسنگ کلارا بیل (Lansing Clarabelle) کے ساتھ پیش آیا اور اس نے دنیا کے لاکھوں لوگوں کو سوچنے پر مجبور کر دیا‘ کلارا بیل الوہا ائیر لائین میں ملازم تھی‘ یہ 28 اپریل کو فلائیٹ 243 کے ذریعے ہیلو (Hilo) سے ہونو لولو جا رہی تھی‘ فلائیٹ میں 90 مسافر اور عملے کے پانچ ارکان سوار تھے۔جہاز نے اس دن 8 فلائیٹس کی تھیں‘ تمام فلائیٹس ہموار اورنارمل تھیں‘ موسم بھی خوش گوار تھا‘ دونوں پائلٹس بھی تجربہ کار تھے‘ وہ 8 ہزار گھنٹوں سے زیادہ فلائنگ کر چکے تھے‘

ہیلو اور ہونولولو کے درمیان 35 منٹ کی فلائیٹ تھی‘ جہاز نے ایک بج کر 25 منٹ پر ٹیک آف کیا اور یہ 20منٹ میں 23 ہزار فٹ کی بلندی پر پہنچ گیا‘ مسافر اور عملہ فلائیٹ کو انجوائے کر رہے تھے‘ پائلٹ کو اچانک فرسٹ کلاس کیبن میں کسی چیز کے ٹوٹنے اور غبارے کی طرح پھٹنے کی آواز آئی‘ وہ پریشانی میں کیمرے گھمانے لگا۔وہ ابھی وجہ تلاش کر رہا تھا کہ اس نے ایک عجیب منظر دیکھا‘ اس نے دیکھا‘ کلارا بیل فرسٹ کلاس کیبن میں کھڑی ہے‘ اچانک جہاز کی چھت میں خلا پیدا ہوا‘ کلارا بیل اپنی جگہ سے اٹھی‘ جہاز سے اڑی‘ باہر گری اور خلا میں گم ہوگئی اور اس کے ساتھ ہی جہاز ڈولنے لگا‘ جہاز کی چھت میں سوراخ ہو چکا تھا‘ پائلٹ نے جہاز کو کنٹرول کرنا شروع کر دیا لیکن جہاز ”آؤٹ آف کنٹرول“ ہو چکا تھا‘ جہاز کے اندر ہوا بھر گئی‘ ہوا کا دباؤ انجن کی طاقت سے کئی گنا زیادہ تھا۔جہاز کے اندر درجہ حرارت منفی چالیس ڈگری سینٹی گریڈ ہو گیا‘

قریب ترین جزیرہ ماؤ تھا‘ پائلٹ13 منٹ کی سر توڑ کوشش کے بعد جہاز کو ماؤ ائیرپورٹ پر اتارنے میں کامیاب ہو گیا‘ مسافر اور عملے کے ارکان محفوظ تھے‘ صرف کلارا بیل غائب تھی‘ وہ آج تک نہیں مل سکی‘ حادثے کے بعد تحقیقات ہوئیں‘ پتہ چلا‘ نمی کی وجہ سے جہاز کی چھت کے پیچ کمزور ہو گئے تھے‘ وہ ہوا کا دباؤ برداشت نہ کر سکے اور پرواز کے دوران عین اس جگہ سے اکھڑ ہو گئے جہاں کلارا کھڑی تھی‘ پیچ نکلنے سے چھت کا ایک حصہ اڑ گیا‘ جہاز میں خلا پیدا ہوا اور کلارا اس خلا سے باہر گر گئی‘ وہ کہاں گئی اور اس کی لاش کہاں گری امریکی فضائیہ کو آج تک اس سوال کا جواب نہیں مل سکا‘ یہ ایک واقعہ تھا‘ آپ اب دوسرا واقعہ ملاحظہ کیجئے‘ یہ واقعہ بھی ایک ائیر ہوسٹس کے ساتھ پیش آیا۔

ویسنا ولووک (Vesna Vulovic) کا تعلق سربیا سے تھا‘ وہ یوگو سلاوین ائیر لائینز میں ملازم تھی‘ وہ 26 جنوری 1972ءکوفلائیٹ جے اے ٹی 367 میں سوار تھی‘ یہ فلائیٹ سٹاک ہوم سے سربیا جا رہی تھی‘ اس دن ویسنا کی ڈیوٹی نہیں تھی لیکن انتظامیہ نے زبردستی اس کی ڈیوٹی لگا دی‘ ویسنا نے ڈیوٹی سے بچنے کی کوشش کی لیکن اس کی ساتھی اس دن بیمار تھی اور سپروائزر کے پاس ویسنا کے علاوہ کوئی آپشن نہیں تھا چنانچہ ویسنا کو طوعاً وکراہاً فلائیٹ میں سوار ہونا پڑ گیا‘ جہاز نے ٹیک آف کیا اور معمول کے مطابق اڑنے لگا۔فلائیٹ جب چیک ریپبلک کی حدود میں داخل ہوئی تو دھماکہ ہوا اور جہاز چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم ہو کر فضا میں بکھر گیا‘ جہاز کو بم سے اڑا دیا گیا تھا‘ بم سامان کے حصے میں لگایا گیا تھا اور وہ ٹائم بم تھا‘

تحقیقاتی اداروں کو دس دن بعد ملبے سے بم کا کلاک بھی مل گیااور کریش کے اگلے دن ایک کروش گروپ نے ذمہ داری بھی قبول کر لی‘ جہاز میں 27 مسافر سوار تھے‘ وہ تمام مسافر ہلاک ہو گئے لیکن آپ قدرت کا کمال دیکھئے ویسنا ولووک اس حادثے میں بچ گئی‘ وہ بم سے بھی محفوظ رہی اور 32 ہزار فٹ کی بلندی سے زمین پر گرنے کے بعد بھی26 دسمبر2016ءتک زندہ رہی‘ یہ معجزہ کیسے ہوا؟تحقیقات کے دوران پتہ چلا کیٹرنگ کی ایک ٹرالی حادثے کے وقت اس کی کمر کے ساتھ جڑ گئی تھی۔اس ٹرالی نے سیٹ بیلٹ کا کام کیا اور اس نے اسے جہاز کے ٹوٹے ہوئے حصے سے الگ نہ ہونے دیا‘ وہ باہر نہ گر سکی‘ دوسرا ‘حادثے کے وقت کوئی لاش اڑ کر اس کے سر پر گر گئی تھی‘ لاش نے اسے اوپر سے محفوظ رکھا جبکہ جہاز کی باڈی اس کے نیچے محفوظ رہی یوں وہ 32 ہزار فٹ کی بلندی اور بم دھماکے کے باوجود زندہ رہی تاہم اس کی دونوں ٹانگیں اور کھوپڑی کی ہڈی ٹوٹ گئی‘ وہ کوما میں بھی چلی گئی ‘ وہ 23 دن کوما میں رہی‘ اسے جہاز سے نکالنے کا فریضہ ایک جرمن ڈاکٹر نے انجام دیا تھا‘ وہ ڈاکٹر دوسری جنگ عظیم میں اس نوعیت کے زخمیوں کا علاج کر چکا تھا چنانچہ اس نے اسے بڑی احتیاط سے ملبے سے نکالا اور ہسپتال پہنچا دیا‘ وہ کئی ماہ زیر علاج رہی‘ وہ صحت مند ہوئی تو اسے دوبارہ سروس میں رکھ لیا گیا‘ یوگو سلاویہ نے اسے قومی ہیروئین کا درجہ بھی دیا‘

وہ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی شامل ہوئی اور اسے دنیا بھر کے سول ایوی ایشن ایوارڈز بھی ملے۔ آپ اب ان دونوں واقعات کا تجزیہ کیجئے‘ ہوائی کی کلارا بیل کی موت کا وقت آ چکا تھا‘ وہ 23 ہزار فٹ کی بلندی پر تھی‘ جہاز کی چھت میں اچانک سوراخ ہوا اور وہ اڑ کر خلا میں گم ہو گئی جبکہ باقی 95 مسافر جہاز کی پھٹی ہوئی چھت اور منفی چالیس ڈگری سینٹی گریڈ کے باوجود سلامت رہے‘ اسی طرح یوگوسلاوین ائیر لائین کے 27 مسافروں کا وقت پورا ہو چکا تھا لہٰذا وہ فضائی حادثے کا شکار ہوگئے جبکہ ویسنا ولووک کی زندگی ابھی باقی تھی ‘ وہ بم دھماکے اور 32 ہزار فٹ کی بلندی سے گرنے کے باوجود محفوظ بھی رہی اوروہ ابھی تک بھرپور زندگی گزارہی ہے‘ یہ کیا ثابت کرتا ہے؟ یہ حضرت علیؓ کا وہ قول ثابت کرتا ہے جس میں آپؓ نے فرمایا تھا‘ زندگی کی سب سے بڑی محافظ موت ہوتی ہے‘ ہم بھی کیا لوگ ہیں‘ ہم موت سے بچنے کے سینکڑوں جتن کرتے ہیں لیکن یہ جب آتی ہے تو پھر یہ سمندر دیکھتی ہے‘ پہاڑ‘ خلا‘ صحرا‘ غار اور نہ ہی ایٹمی مورچہ‘ یہ انسان پر وہاں سے وار کرتی ہے جس کے بارے میں اس نے سوچا تک نہیں ہوتا‘

پانی کے دو قطرے ہماری سانس کی نالی میں پھنستے ہیں اور ہم اوندھے ہو کر گر پڑتے ہیں‘ چیل کے منہ سے ہڈی گرتی ہے‘ ہمارے سر پر لگتی ہے اور ہم دم دے جاتے ہیں‘ امیر تیمور نے آدھی دنیا میں کھوپڑیوں کے مینار بنا دیئے‘ وہ تلواروں‘ تیروں اور نیزوں سے بچ گیا۔ طاعون بھی اس کا کچھ نہ بگاڑ سکی لیکن وہ آخر میں سردی لگنے سے مر گیا‘ ہمایوں کو اس کے اپنے اور پرائے مل کر قتل نہیں کر پائے لیکن وہ آخر میں سیڑھی سے پھسل کر مر گیا‘ یہ کیا ہے؟ یہ موت کا وہ وقت ہے جسے کوئی ٹال نہیں سکتا اور جب انسان کا وقت نہیں ہوتا‘ قدرت اسے ابھی زندہ رکھنا چاہتی ہے تو پھر وہ برستے بموں‘ پھیلتی آگ اور ٹوٹتے پھوٹتے پہاڑوں کے درمیان بھی زندہ رہتا ہے‘ وہ مگر مچھ کے پیٹ سے بھی سلامت نکل آتا ہے‘ وہ شیروں کے غار اور سانپوں کے کنوئیں میں بھی حیات رہتا ہے یہ زندگی اور موت کا کھیل ہے‘ یہ عجیب کھیل ہے‘ آپ نے بچنا ہے تو دنیا کی کوئی طاقت آپ کو مار نہیں سکتی اور آپ کا وقت آ پہنچا ہے تو دنیا کے تمام ڈاکٹرز‘ تمام طبیب مل کر بھی آپ کو بچا نہیں سکتے‘

آپ سلامت ہیں تو آپ میزائل لگنے کے بعد بھی سلامت رہیں گے اور آپ کا وقت آ چکا ہے تو آپ کےلئے مچھر کا ڈنگ بھی کافی ہو گا‘ آپ کو پانی کا گلاس بھی لڑ سکتا ہے‘ ہم لوگ زندگی اور موت کے معاملے میں مکمل بے بس ہیں ہم اپنی زندگی میں اضافہ کر سکتے ہیں اور نہ ہی کمی چنانچہ ہمیں موت سے بھاگنے کی بجائے موت کو اپنا دوست بنا لینا چاہیے‘ یہ دوست ہماری زندگی کی حفاظت بھی کرے گا اور ہمیں زندگی کی غلاظت سے بھی بچائے گا‘ یہ ہمیں روز وہ نقطہ سمجھائے گا جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کو سمجھایا تھا‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا‘ موسیٰ جب میں کسی شخص کو کوئی چیز دینا چاہتاہوں اور ساری دنیا مل کر اس سے وہ چیز چھیننا چاہتی ہےاور میں جب کسی کو کسی چیز سے محروم رکھنا چاہتاہوں اور ساری دنیا مل کر اسے وہ چیز دینا چاہتی ہے تو مجھے لوگوں کی کوشش پر بہت ہنسی آتی ہے‘ ہم یہ نقطہ سمجھ لیں‘ ہم اگر موت کو اپنا دوست بنا لیں تو موت ہمیں روزانہ یہ بتائے گی‘ اے بے وقوف شخص تم غم نہ کرو‘ یہ اگر تمہارا نصیب ہے تو کوئی اسے تم سے چھین نہیں سکے گا اور یہ اگر تمہارے نصیب میں نہیں تو یہ تمہیں کبھی نہیں مل سکے گا‘ شکرکرو‘ توبہ کرو اور خوش رہو‘ زندگی بس یہی ہے۔

بہلول دانا کی باتیں:

کہتے ہیں ایک بار حضرت جنید بغدادی سفر کے اِرادے سے بغداد سے روانہ ہوئے ۔حضرت شیخ کے کچھ مُرید ساتھ تھے شیخ نے مُریدوں سے پوچھا تُم لوگوں کو بہلول کا حال معلوم ہے؟۔ لوگوں نے عرض کی جناب وہ تو ایک دیوانہ ہے آپ اُس سے مِل کر کیا کریں گے؟ شیخ نے فرمایا ذرا بہلول کو تلاش کرو مجھے اُس سے کام ہے۔ مُریدوں نے شیخ کے حکم کے تعمیل اپنے لئے سعادت سمجھی اور تھوڑی جُستجو کے بعد ایک صحرا میں بہلول کو ڈھونڈ نِکالا اور شیخ کو اپنے ساتھ لیکر وہاں پہنچے،شیخ بہلول کے سامنے گئے تو دیکھا کہ بہلول سر کے نیچے اینٹ رکھے ہوئے دراز ہیں۔ شیخ نے سلام کیا تو بہلول نے جواب دے کر پوچھا تُم کون ہو۔۔؟؟ شیخ نے فرمایا میں ہوں جنید بغدادی اچھا تو تم وہی جیند ہو جو لوگوں کو بزرگوں کی باتیں سِکھاتے ہو بہلول نے کہا۔ شیخ نے جواب دیا جی ہاں کوشش تو کرتا ہوں۔ بہلول نے کہا اچھا تُم اپنے کھانے کا طریقہ تو جانتے ہی ہو گے۔ شیخ نے جواب دیا کیوں نہیں ، بسم اللہ پڑھتا ہوں اپنے سامنے کی چیز کھاتا ہوں چھوٹا نوالہ بناتا ہوں، آہستہ آہستہ چباتا ہوں اور دوسروں کے نوالے پر نظر نہیں ڈالتا اور کھانا کھاتے وقت اللہ کی یاد سے غافل نہیں ہوتا۔ جو لقمہ بھی کھاتا ہوں الحمد اللہ کہتا ہوں کھانے سے پہلے بھی ہاتھ دھوتا ہوں اور کھانے سے فارغ ہو کر بھی ہاتھ دھوتا ہوں۔

یہ سُن کر بہلول اُٹھ کھڑے ہوئے اور اپنا دامن شیخ پر جھٹک دیا اور کہا تُم اِنسانوں کے پیر و مُرشد بننا چاہتے ہو اور حال یہ ہے کہ اب تک کھانے پینے کا طریقہ بھی نہیں جانتے۔ یہ کہہ کر بہلول نے اپنا راستہ لیا، شیخ کے مُریدوں نے کہا حضرت یہ شخص تو دیوانہ ہے فرمایا ،، ہاں دیوانہ تو ہے لیکن اپنے کام کے لئے ہوشیاروں کے کان کاٹتا ہے اِس سے سچی بات سننا چاہئیے آؤ اس کے پیچھے چَلیں مجھے اس سے کام ہے۔ بہلول ایک ویرانے میں پہنچ کر ایک جگہ بیٹھ گئے،شیخ بغدادی اُن کے پاس پہنچے تو انہوں نے پھر سوال کیا کہ کون ہو تُم ؟؟ شیخ نے جواب دیا کہ میں ہوں جنید بغدادی جسے کھانے کا طریقہ نہیں آتا۔۔ بہلول نے کہا تُم کھانے کے آداب سے ناواقف تو ہو ہی گفتگُو کا طریقہ تو جانتے ہو گے؟؟ شیخ نے جواب دیا جی جانتا تو ہوں بہلول نے کہا تو پھر بتاؤ کس طرح بات کرتے ہو؟؟ شیخ کہنے لگے میں ہر بات ایک اندازے کے مطابق کرتا ہوں ۔

بے موقع اور بے حساب نہیں بولے جاتا سننے والوں کی سمجھ کا اندازہ کر کے خلقِ خُدا کو اللہ اور اُس کے رَسول (صل الله عليه وآله وسلّم) کے احکام کی طرف متوجہ کرتا ہوں۔ یہ خیال رکھتا ہوں کہ اِتنی باتیں نہ کہوں کہ لوگ مجھ سے بیزار ہو جائیں۔باطنی اور ظاہرہ عُلوم کے نکتے نظر میں رکھتا ہوں،اِس کے عِلاوہ شیخ نے آدابِ گفتگو کی بابت اور باتیں بھی بیان کیں،، بہلول نے کہا کھانا کھانے کے آداب تو ایک طرف تُمہیں تو گفتگو کرنے کا بھی ڈھنگ نہیں آتا۔ پھر شیخ سے منہ موڑ کر ایک اور طرف چل دئیے، مُریدوں سے خاموش نہ رہا گیا،،کہنے لگے یا حضرت! یہ شخص تو دیوانہ ہے آپ اس سے بھلا اور کیا توقع رکھ سکتے ہیں۔۔۔ شیخ نے جواب دیا بھئی مجھے تو اس سے کام ہے نا تُم یہ بات نہیں سمجھو گے۔ اس کے بعد شیخ نے پھر بہلول کا پیچھا کیا،، بہلول نے مُڑ کر کہا تُمہیں کھانا کھانے اور بات کرنے کا طریقہ تو نہیں آتا سونے کا تو آتا ہو گا۔ شیخ نے فرمایا جی ہاں معلوم ہے، اچھا تو بتاؤ کس طرح سوتے ہو بہلول نے کہا شیخ کہنے لگے جب میں عِشاء کی نماز اور اپنے وظائف سے فارغ ہوتا ہوں تو سونے کے کمرے میں چلا جاتا ہوں،یہ کہہ کر شیخ نے سونے کے آداب بیان کئے جو اُنہیں بزرگوں نے تعلیم کئے ہوئے تھے۔ بہلول نے کہا معلوم ہوا تُمہیں تو سونے کا طریقہ بھی نہیں آتا۔۔ یہ کہہ کر بہلول نے جانا چاہا تو شیخ نے اُن کا دامن پکڑ لیا اور کہا بہلول میں نہیں جانتا تو اللہ کے واسطے مجھے سِکھا دو۔۔۔ کچھ دیر بعد بہلول نے کہا اے جنید یہ جتنی باتیں بھی تُم نے کہی ہیں سب بعد کی چیزیں ہیں،اصل بات مجھ سے سُنو،،،،،، کھانے کا طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے حلال کی روزی ہونی چاہئیے اگر غذا میں حرام کی آمیزش ہو جائے تو جو آداب تُم نے بیان کئے ہیں برتنے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا اور دِل روشن ہونے کی بجائے اور تاریک ہو جائے گا۔۔ شیخ جُنید نے بے ساختہ کہا اللہ تُمہارا بھلا کرے۔۔۔ پھر بہلول نے بتایا گفتگو کرتے وقت دِل کا پاک اور نیت کا صاف ہونا ضروری ہے۔اور اِس بات کا بھی خیال رہے کہ جو بات بھی کہی جائے اللہ کی رضا مندی کے لئے ہو۔

اگر کوئی غرض یا دُنیاوی مطلب ہو گا یا بات فضول قِسم کی ہو گی تو خواہ کتنے ہی اچھے الفاظ میں کہی جائے تمہارے لئے وبال بن جائے گی ایسی بات کرنے سے خاموش رہنا بہتر ہے۔ پھر سونے کے متعلق بتایا کہ اِسی طرح سونے کے متعلق جو تُم نے بیان کیا وہ بھی اصل مقصود نہیں ،اصل بات یہ ہے کہ جب تُم سونے لگو تو تمہارا دِل بغض،کینے اور حسد سے خالی ہو تمہارے دِل میں دُنیا کی محبت نہ ہو اور نیند آنے تک اللہ کے ذِکر میں مشغول رہو۔۔۔ بہلول کی بات ختم ہوتے ہی شیخ جُنید نے اُن کے ہاتھوں کو بوسہ دیا اور اُن کے لئے دُعا کی شیخ جُنید کے مُرید یہ دیکھ کر حیران رہ گئے اور بہلول کے متعلق اُن کے خیالات درست ہو گئے۔۔ حضرت جنید اور بہلول کے اس واقعے سے سب سے بڑا سبق یہی حاصل ہوتا ہے کہ کچھ نہ جاننے پر بھی دل میں یہ جاننا کہ ہم بہت کچھ جانتے ہیں، بہت نقصان پہنچانے والی بات ہے۔ اس سے اصلاح اور ترقی کے راستے بند ہو جاتے ہیں اور انسان گمراہی میں پھنسا رہ جاتا ہے۔ التزكيه،اصلاح نفس

اونٹ

ایک طالب علم کو استاد نے امتحان میں فیل کردیا ، طالب علم شکایت لے کر پرنسپل کے پاس چلا گیا کہ مجھے غلط فیل کیا گیا ہے پرنسپل نے استاد اور طالب علم دونوں کو بلا لیا اور استاد سے فیل کرنے کی وجہ پوچھی استاد صاحب نے بتایا کہ اس لڑکے کو فیل کرنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ ہمیشہ موضوع سے باہر نکل جاتا ہے جس موضوع پر اسے مضمون لکھنے کو دیا جائے اسے چھوڑ کر اپنی پسند کے مضمون پر چلا جاتا ہے۔پرنسپل نے کوئی مثال پوچھی تو استاد صاحب نے بتایا کہ ایک دفعہ میں نے اسے بہار پر مضمون لکھنے کو کہا تو وہ اس نے کچھ اس طرح لکھا۔ موسم بہار ایک بہت ہی بہترین موسم ہوتا ہے اور

اس کے مناظر بہت ہی دلنشین ہوتے ہیں۔ اس موسم میں ہر طرف ہریالی ہی ہریالی ہوتی ہے اور سبزے کی بہتات ہو جاتی ہے ، اس موسم کو اونٹ بہت پسند کرتے ہیں اور اونٹ بہت ہی طاقت ور جانور ہے۔ یہ صحراء کا جہاز کہلاتا ہے۔اونٹ نہایت ہی صابر جانور ہے۔ لمبے لمبے سفروں پر نکلتا ہے اور زیادہ دن بھوک و پیاس برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عرب کے لوگ اونٹ کو بہت پسند کرتے ہیں۔۔۔۔ وغیرہ وغیر۔ پرنسپل صاحب نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ یہ مناسبت کی وجہ سے بہار کی بجائے اونٹ پر لکھ بیٹھا ہو آپ اسے کوئی اور موضوع دے کر دیکھتے۔ استاد صاحب نے کہا کہ میں نے ایک دفعہ اس سے کہا کہ تم اس طرح کروکہ جاپان میں گاڑیوں کی فیکٹری پر مضمون لکھو۔ اس طالب علم نے جو مضمون لکھا وہ کچھ اس طرح تھا۔ جاپان ایک ترقی یافتہ ملک ہے اور گاڑیوں کی صنعت میں اس کو منفرد و اعلی مقام حاصل ہے۔ جاپان دنیا میں پہلے نمبر پر ہے گاڑیاں برآمد کرنے میں۔ ہمارے ملک میں بھی زیادہ تر گاڑیاں جاپان کی استعمال ہوتی ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں پیٹرول کی قیمت بہت زیادہ ہے اس لیے ہمیں چاہیے کہہم سواری کے لیے اونٹ کا استعمال کریں اونٹ بہت ہی طاقت ور جانور ہے۔ یہ صحراء کا جہاز کہلاتا ہے۔ اونٹ نہایت ہی صابر جانور ہے۔لمبے لمبے سفروں پر نکلتا ہے اور زیادہ دن بھوک و پیاس برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عرب کے لوگ اونٹ کو بہت پسند کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پرنسپل بہت حیران ہوا اس نے کہا کہ شاید سواری کی وجہ سے ایسا ہو گیا ہے ، آپ بالکل ہی کوئی الگ موضوع دے کے دیکھتے ۔استاد صاحب نے کہا جی ایک دفعہ میں نے بالکل ہی الگ موضوع دیا جس میں اونٹ کا ذکر آنا ہی ناممکن تھا میں نے اسے کمپیوٹر پر مضمون لکھنے کو کہا لیکن اس نے جو مضمون لکھا وہ کچھ اس طرح تھا

کمپیوٹر ایک نہایت ہی حیران کن ایجاد ہے۔ جو کام پہلے سالوں میں نہیں ہوتے تھے وہ آج سکینڈوں میں ہوتے ہیں ۔کمپیوٹر کا انسانی زندگی پر بہت بڑا احسان ہے۔ آج کل کی نئی نسل کمپیوٹر کو بہت زیادہ اہمیت دیتی ہیں۔اس کا استعمال زیادہ تر وہ لوگ کرتے ہیں جو تعلیم یافتہ ہوں۔ لیکن جہاں تک غیر تعلیم یافتہ طبقے کا تعلق ہے تو وہ کمپیوٹر پر توجہ نہیں دیتے کیوں کہ وہ اور سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں۔ بالخصوص صحراوں میں جو بدھوں رہتے ہیں ان کو تو کمپیوٹر کا الف سے با نہیں پتہ۔ لہذا ہمارے علاقے میں یہ لوگ زیادہ تر وقت اونٹ کے ساتھ گزارتے ہیں۔ اونٹ بہت ہی طاقت ور جانور ہے۔ یہ صحراء کا جہاز کہلاتا ہے۔اونٹ نہایت ہی صابر جانور ہے۔ لمبے لمبے سفروں پر نکلتا ہے اور زیادہ دن بھوک و پیاس برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عرب کے لوگ اونٹ کو بہت پسند کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔پرنسپل نے یہ سنکر کہا کہ پھر تو آپ نے ٹھیک فیل کیا ، پھر طالب علم سے کہا کہ میں آپ کو ایک موقع دیتا ہوں آپ بہیں بیٹھ کر ایک مضمون لکھو جو موضوع سے ادھر ادھر نہ ہٹے ،

طالب علم مان گیا اور پرنسپل نے اسے ایک روڈ ایکسیڈنٹپر مضمون لکھنے کو کہتا ہے تو طالب علم یوں مضمون لکھتاہے۔ ایک دفعہ میں ریاض سے مکہ جا رہا تھا۔ میرے پاس ٹویوٹا کرسیڈا گاڑی تھی جو بڑی مست تھی۔ میں جناب ہائی وے ہے پر بہت ہی تیز رفتاری کے ساتھ جا رہا تھامیں ایسے علاقے سے گزر رہا تھا جہاں پر اونٹ روڈ کراس کرتے ہیں۔ اور اونٹ کی خاص بات یہ ہے کہ وہ نہ ہی گاڑی سے ڈرتا ہے اور نہ ہی دور ہٹتا ہے۔ اونٹ بہت ہی طاقت ور جانور ہے۔یہ صحراء کا جہاز کہلاتا ہے۔ اونٹ نہایت ہی صابر جانور ہے۔ لمبے لمبے سفروں پر نکلتا ہے اور زیادہ دن بھوک و پیاس برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عرب کے لوگ اونٹ کو بہت پسند کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ جب پرنسپل صاحب نے یہ مضمون پڑھا تو سر پکڑ کر بیٹھ گئے اور کہا کہ

تمہارا کوئی علاج نہیں اور اس کو فیل کردیا۔ اب جناب اس شاگرد کا شک یقین میں بدل گیا کہ اس کے ساتھ ضرور بالضرور ظلم ہوا ہےاور اس نے محکمہ تعلیم کو ایک درخواست لکھیجناب عالی! میں اپنی کلاس کا ایک نہایت ہی ذہین طالب علم ہوں اور مجھے سالانہ امتحان میں جان بوجھ کر فیل کر دیا گیا ہے ، میرے استاد نے میری قابلیت کی وجہ سے مجھے فیل کیا ہے ، جناب میں نے اپنے استاد کے ناقابل برداشت رویے پر ایسے ہی صبر کیا جیسے اونٹ اپنے مالک کے ستانے پر صبر کرتا ہے۔ مالک اونٹ سے اپنے کام بھی نکلواتا ہے اور اس کو ستاتا بھی ہے۔اور ہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ اونٹ بہت ہی طاقت ور جانور ہے۔ یہ صحراء کا جہاز کہلاتا ہے۔ اونٹٍ نہایت ہی صابر جانور ہے۔ لمبے لمبے سفروں پر نکلتا ہے اور زیادہ دن بھوک و پیاس برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عرب کے لوگ اونٹ کو بہت پسند کرتے ہیں۔